Monday, 5 December 2016

دل عاشق میں قلق حد سے سوا ہوتا ہے

دلِ عاشق میں قلق حد سے سوا ہوتا ہے
ذکرِ محبوب بھی اندوہ فزا ہوتا ہے
بت پندار جو اس میں سے جدا ہوتا ہے
یہی دل رتبے میں کعبہ سے سوا ہوتا ہے
انہیں کانوں سے اناالحق کے سنے ہیں دعوے
آدمی عشق میں کیا جانئے کیا ہوتا ہے
حسن کی چارہ گری کا ہے بڑا شور مگر
دردِ الفت کہیں محتاجِ دوا ہوتا ہے
غیر کو غیر جو کہیۓ تو غلط ثابت ہو
اور کہیۓ، کہ وہی ہے تو خفا ہوتا ہے
سوئے منصور اناالحق کی غلط نسبت تھی
کوئی کہہ دے کہیں بندہ بھی خدا ہوتا ہے
دل جو تھا خاص گھر اس کا نہ بنایا افسوس
مسجد و دیر بنایا کرو، کیا ہوتا ہے
دل رُبائی تیری ہر بار نرالی نکلی
واہ رے حسن کہ ہر جلوہ نیا ہوتا ہے
عشق کامل ہو تو مرشد نہیں ایسا کوئی
خود وہی قبلہ وہی قبلہ نما ہوتا ہے
امتیازِ من و تو کچھ بھی تو باقی رہتا
بادۂ جلوہ غصب ہوش رُبا ہوتا ہے
دشمنِ زیست جدائی ہے تو ملنا کیا ہے
قطرہ دریا سے جو ملتا ہے فنا ہوتا ہے
غیر سے قطع نظر چاہیۓ عاشق کے لئے
حاصلِ خلوت و بزم ایک مزا ہوتا ہے
محو و اثبات کے جھگڑے میں پھنسا کر ہم کو
دیکھیں کب لطف ترا عقدہ کشا ہوتا ہے
بے حجابی تھی پسند انکو ابھی کل کی ہے بات
آج پردے میں ہیں پھر دیکھیۓ کیا ہوتا ہے
جس میں دیدار ہو وہ بھی ہے قیامت کوئی
یہ قیامت ہے کہ وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے
ابھی دیکھا نہیں اس پر تو یہ بے تابی ہے
دیکھیۓ دیکھ کے کیا حال مرا ہوتا ہے
پھر گئے خلد کو آدم مگر ابلیس تو جائے
نہ بُرا سوچ کسی کا کہ بُرا ہوتا ہے
ہمت شیخ کی صیقل کی بدولت آسیؔ
یہی دل آئینہ روئے خدا ہوتا ہے

آسی غازی پوری

No comments:

Post a Comment