دانیال طریر کے سانحۂ ارتحال پر درد و غم کے ساگر میں ڈوبی، شاعری کے رنگوں میں رنگی ایک بہن کے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلی آہ پر مبنی شاعری
لہو نچوڑوں کہ ماس دانی، بجھاؤں کیسے میں پیاس دانی
یہ ساری دنیا میں بھسم کر دوں، نکالوں کیسے بھڑاس دانی
شجر خفا ہیں، کھنڈر خفا ہیں، سبھی کے دل کے نگر خفا ہیں
گلی ہوئی ہے، جلی ہوئی ہے، نئی رتوں کی کپاس دانی
تُو بادلوں کی طرف گیا ہے پتنگ لینے خبر ہے مجھ کو
وہ کیا مکاں تھا جو لامکاں تھا، وہ کیا زماں تھا جو لازماں تھا
وہ بھید سارے تُو پا گیا ہے، تھا جن سے تُو نا شناس دانی
یہ کیسے منظر میں کھو گیا ہے، کہ آپ منظر تُو ہو گیا ہے
ہے سبز اطلس کا تیرا بستر، ہے مخملی تیری گھاس دانی
گیا ہے جب سے میں تیرے لفظوں کی گھٹڑیوں کو چھپا رہی ہوں
غزل اٹھاؤں یا نظم دیکھوں، سنبھالوں تیری میراث دانی
تُو بیل گاڑی پہ چلتے چلتے اسی شجر تک پہنچ گیا ہے
تیری رگوں میں بھی دکھ رواں تھا، تُو بھی تو تھا دیوداس دانی
تُو وہ کوی تھا کہ جس نے شبدوں کو اپنا جیون ہی تیاگ ڈالا
تمام شبدوں کو ارتھ دے کر، کِیا ہے تُو نے نراش دانی
ہیں چار جانب گھنے اندھیرے کہ سانپ ہیں خود یہاں سپیرے
تمام وحشی ہیں اب یہاں پر، ہے شہر بن کا عکاس دانی
میں تیری آنکھوں کے خواب لکھوں یا روز گرتے عذاب لکھوں
میں جو بھی لکھوں تجھے دکھاؤں، کہوں اب اس کو تراش دانی
وہ کرب سارا تیرے بدن کا، میری رگوں میں اتر گیا ہے
مگر میں خوش ہوں کہ ہو رہی ہے لہو میں پیدا مٹھاس دانی
یہ چاہتی ہوں سوال پوچھوں، ہوا ہے کیوں یہ زوال پوچھوں
خدا سے کیسے کروں میں شکوہ، وہ دوست تیرا ہے خاص دانی
عجیب لمحوں میں بٹ گئے ہیں، ہم اپنے مرکز سے ہٹ گئے ہیں
وہ شام آنکھوں میں بس گئی ہے، گراں ہے سب پہ ہی سانس دانی
رتیں خوشی کی ہی چھٹ گئیں ہیں، ہماری عمریں ہی گھٹ گئی ہیں
دکھا سکوں گی تجھے میں کیسے، کہ گھر ہے کتنا اداس دانی
ہے زندگی پہ یہ خوف طاری، کیوں آج مجھ کو ہے موت پیاری
جہاں پہ ابو ہے ساتھ تیرے، ہے ایسے گھر کی تلاش دانی
وہی ہے لفظوں بھری تغاری، مگر ہیں ان کے نئے لکھاری
کوئی تو رکھے گا، تیری نظموں کا تیری غزلوں کا پاس دانی
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment