Wednesday, 11 January 2017

ڈر لگتا ہے ٹوٹ نہ جائے سپنوں والی باڑ

ڈر لگتا ہے ٹوٹ نہ جائے سپنوں والی باڑ
پاؤں پڑی ہے پیار کے کچے دھاگوں والی باڑ
چاٹ رہی ہے دیمک بن کر جینے کی خواہش
کاٹ رہی ہے رگ رگ اندر سانسوں والی باڑ
کیسے پریت کے بندھن باندھیں دیش دیش کے لوگ
سرحد سرحد لگی ہوئی ہے کانٹوں والی باڑ
دروازے سے لوٹ آئی ہیں پھر آنکھیں مایوس 
ٹوٹ گئی ہو جیسے کسی کے وعدوں والی باڑ
پنکھ لگا کر دل کرتا ہے اڑوں میں پربت پار
روک رہی ہے مجھ کو زمیں پر رشتوں والی باڑ
رات کو جب میں دیکھ کے سویا تیری آنکھوں کو
خواب میں دیکھی قوس قزح کے رنگوں والی باڑ
جلتے دِیے ہوں طاق میں جیسے چہرے میں آنکھیں 
شانوں کی دیوار پہ پھیلی زلفوں والی باڑ
چاند اکیلا جیسے طریؔر اور سڑک کے گرد اشجار 
جیسے رات کو آسمان پر تاروں والی باڑ

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment