اک شخص مِرے شہر میں ایسا بھی رہا ہے
جو بھیڑ کے ہوتے ہوئے تنہا بھی رہا ہے
تنہائی میں جس شخص کے رکتے نہیں آنسو
ہنگامۂ بازار میں ہنستا بھی رہا ہے
اب جس کے تکلم کو ترستا ہے زمانہ
یہ ریت کا صحرا جو نظر آتا ہے تم کو
کہتے ہیں کسی دور میں دریا بھی رہا ہے
منہ زور ہواؤں سے گِلہ کچھ نہیں عاجز
تا دیر دِیا پیار کا جلتا بھی رہا ہے
مشتاق عاجز
No comments:
Post a Comment