Wednesday, 11 January 2017

اک شخص مرے شہر میں ایسا بھی رہا ہے

اک شخص مِرے شہر میں ایسا بھی رہا ہے
جو بھیڑ کے ہوتے ہوئے تنہا بھی رہا ہے
تنہائی میں جس شخص کے رکتے نہیں آنسو
ہنگامۂ بازار میں ہنستا بھی رہا ہے
اب جس کے تکلم کو ترستا ہے زمانہ
دنیائے ترنم میں وہ یکتا بھی رہا ہے
یہ ریت کا صحرا جو نظر آتا ہے تم کو
کہتے ہیں کسی دور میں دریا بھی رہا ہے
منہ زور ہواؤں سے گِلہ کچھ نہیں عاجز
تا دیر دِیا پیار کا جلتا بھی رہا ہے

مشتاق عاجز

No comments:

Post a Comment