شہر والوں نے تو رسماً عادتاً رسوا کِیا
آپ کہیے، آپ نے کیا سوچ کر ایسا کیا
میں تو اپنے دشمنوں کا بھی گِلہ کرتا نہیں
دوستی میں آپ نے بھی جو کیا اچھا کیا
چھپ کے میرے لوٹنے والے مجھے لوٹا کیے
اِک نظر دیکھے مجھے، جس نے کبھی دیکھا نہ ہو
اِک سمندر جس کو اپنی پیاس نے صحرا کیا
مفلسی تھی، اور تو کوئی کمی عاجزؔ نہ تھی
دوستوں کی بھیڑ میں جس نے مجھے تنہا کیا
مشتاق عاجز
No comments:
Post a Comment