Sunday, 23 August 2020

کبھی درد محبت کی دوا مانگوں تو میں کافر

👹کبھی دردِ محبت کی دوا مانگوں تو میں کافر
وفا کے بدلے میں تجھ سے وفا مانگوں تو میں کافر
یہ تجھ کو سوچتے رہنا، مِری بے لوث چاہت ہے
محبت کا کبھی تجھ سے صِلہ مانگوں تو میں کافر
مجھے یادیں تِری ہر لمحہ تڑپاتی تو ہیں، لیکن
تجھے گر بھول جانے کی دعا مانگوں تو میں کافر
یہ شعلہ بے رخی کا پھونکنے کو ہے مِری ہستی
قسم ہے، تیرے دامن کی ہوا مانگوں تو میں کافر
وہی جُہل و تکبر کے صنم خانے ہیں دنیا میں
میں اس بتخانے سے کوئی خدا مانگوں تو میں کافر
مجھے راس آ گیا ہے گوشۂ تنہائی کچھ ایسا
کہ بوئے گل یا دامانِ صبا مانگوں تو میں کافر
تیری تاریکیاں رکھتی ہیں اشکوں کا بھرم اکثر
شبِ ہجراں! قسم تیری، دِیا مانگوں تو میں کافر
مجھے جرمِ محبت میں سبھی غم ہیں سر آنکھوں پر
اگر بھولے سے تخفیفِ سزا مانگوں تو میں کافر
یہ مرضِ عاشقی ہی گر ہے میرا امتحاں، تو پھر
مجھے مرنا گوارا ہے، شفا مانگوں تو میں کافر
اگر سر زد کوئی بھولے سے نیکی ہو گئی مجھ سے
قبول اس کو کرے مولا، جزا مانگوں تو میں کافر
گدائی خاکِ طیبہ کی مجھے سلطانی لگتی ہے
خدا شاہد، پر و بالِ ہما مانگوں تو میں کافر
نگاہِ بے نیازی بھی صدف مجھ کو غنیمت ہے
میں اس سے روٹھ جانے کی ادا مانگوں تو میں کافر

صدف مرزا

No comments:

Post a Comment