Monday, 14 September 2020

بجا ہے عاشقی میں ہم کو دعویٰ سرفرازی کا

بجا ہے عاشقی میں ہم کو دعویٰ سرفرازی کا
کہ نکلا ہے ہمی سے نام تیری دل نوازی کا
رہے گا حشر تک افسانہ باقی عشق بازوں میں
ہماری جاں فشانی کا تمہاری بے نیازی کا
ملامت ہائے ظاہر سے میں بےغم کہ باطن میں
ملا ہے سلسلہ حسنِ حقیقی سے مجازی کا
مٹا کر مجھ کو تکلیفیں مٹا دی سب محبت کی
ادا اس بے وفا نے کر دیا حق چارہ سازی کا
یہ آخر تاکجا مشقِ جفا کچھ حد بھی ہے ظالم
زمانہ ہو گیا پامال تیری ترکِ تازی کا
مصیبت اس کو راحت ہے فراغت اس کو زحمت ہے
مزا کچھ دل کو ایسا پڑ گیا ہے عشق بازی کا
نظربازی کی حسرت خو بری ہے ورنہ لوگوں میں
بہت شہرہ سنا تھا ہم نے تیری پاکبازی کا

حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment