نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
یوں تو جہاں میں قاتل و جلاد ہیں بہت
تم فرد ظلم میں ہو قسم آسمان کی
وہ نرم دل ہوں، دوست کے مانند رو دیا
دشمن نے بھی جو اپنی مصیبت بیان کی
بر لائیے کبھی نہ کبھی تو مُرادِ دل
لے لیجیے دعائیں کسی بے زبان کی
خجلت کے مارے لعلِ یمن ہو گیا سفید
ان کے لبوں پہ دیکھ لی سُرخی جو پان کی
گنبد ہے گردبار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
آزاد بیخودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی
ابوالکلام آزاد
No comments:
Post a Comment