Thursday, 10 September 2020

خواہشوں کے گماں بدلتے ہیں

خواہشوں کے گماں بدلتے ہیں
سرد لہجے کہاں بدلتے ہیں
آؤ، ہم بھی نباہ کرنے کو
رسمِ سود و زیاں بدلتے ہیں
اب تیقن خدا پہ ہے ہم کو
ہم غرورِ بتاں بدلتے ہیں
اختتامِ سفر نہیں ہوتا
منزلوں کے نشاں بدلتے ہیں
آندھیاں یہ ہنر سکھاتی ہیں
گھر پرندے کہاں بدلتے ہیں
وہ سمجھتے ہیں دوریاں ہم میں
ہم بھی ان کا گماں بدلتے ہیں
تم بھی انصر مزاج نرم کرو
ہم بھی اپنا بیاں بدلتے ہیں

انصر منیر

No comments:

Post a Comment