خواہشوں کے گماں بدلتے ہیں
سرد لہجے کہاں بدلتے ہیں
آؤ، ہم بھی نباہ کرنے کو
رسمِ سود و زیاں بدلتے ہیں
اب تیقن خدا پہ ہے ہم کو
اختتامِ سفر نہیں ہوتا
منزلوں کے نشاں بدلتے ہیں
آندھیاں یہ ہنر سکھاتی ہیں
گھر پرندے کہاں بدلتے ہیں
وہ سمجھتے ہیں دوریاں ہم میں
ہم بھی ان کا گماں بدلتے ہیں
تم بھی انصر مزاج نرم کرو
ہم بھی اپنا بیاں بدلتے ہیں
انصر منیر
No comments:
Post a Comment