Tuesday, 2 March 2021

میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے

 پھول


میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے

اپنے سبز زخموں کی ٹہنیوں پر

جنہیں تم اپنی توجہ سے راکھ ہونے سے روکے ہوئے ہو

میرے زخموں کو میرا گِہنا بنا کر مجھے ہنسنا سکھانے والے

پھول کی پتیاں تمہاری محبت کا کاسنی رنگ تھامے ہوئے ہیں

میں اس پھول کو انتظار کے پانیوں سے سینچ رہی ہوں

اور جب تم خزاں کے گِرتے پتوں پہ چلتے ہوئے

میرے سرد ہاتھوں اور نیلے ناخنوں کو اپنے نیلے کوٹ کی جیبوں میں ڈال کر 

مجھے لمس کی حرمت کی اہمیت جتانے

پھولوں کے ٹہنیوں سے بچھڑ جانے کے موسم میں ملنے آؤ گے

تو یہ پھول میں تمہارے نیلے کوٹ کی سینے والی جیب میں سجاؤں گی


عظمیٰ طور

No comments:

Post a Comment