پھول
میں نے اپنے ہاتھ کی پشت پہ ایک پھول بنایا ہے
اپنے سبز زخموں کی ٹہنیوں پر
جنہیں تم اپنی توجہ سے راکھ ہونے سے روکے ہوئے ہو
میرے زخموں کو میرا گِہنا بنا کر مجھے ہنسنا سکھانے والے
پھول کی پتیاں تمہاری محبت کا کاسنی رنگ تھامے ہوئے ہیں
میں اس پھول کو انتظار کے پانیوں سے سینچ رہی ہوں
اور جب تم خزاں کے گِرتے پتوں پہ چلتے ہوئے
میرے سرد ہاتھوں اور نیلے ناخنوں کو اپنے نیلے کوٹ کی جیبوں میں ڈال کر
مجھے لمس کی حرمت کی اہمیت جتانے
پھولوں کے ٹہنیوں سے بچھڑ جانے کے موسم میں ملنے آؤ گے
تو یہ پھول میں تمہارے نیلے کوٹ کی سینے والی جیب میں سجاؤں گی
عظمیٰ طور
No comments:
Post a Comment