کوئی سچ بول کر شام و سحر چپ چاپ رہتا ہے
کوئی سچائی سے منہ موڑ کر چپ چاپ رہتا ہے
وہ جس کی گفتگو پر جان دیتی ہے ہر اِک محفل
پہنچتا ہے وہی جب اپنے گھر چپ چاپ رہتا ہے
ہمیشہ بے ہنر کرتے ہیں بے سر پیر کی باتیں
مگر جس میں بھی ہو کوئی ہنر چپ چاپ رہتا ہے
چھپی رہتی ہیں کتنی داستانیں اک خموشی میں
کوئی انسان کیا کیا سوچ کر چپ چاپ رہتا ہے
نہ ہو جس کو پسند اپنی صفائی میں بھی کچھ کہنا
وہ نیچی کر کے آنکھیں عمر بھر چپ چاپ رہتا ہے
ہیں اب بھی شہر میں دو چار گھر ایسے جہاں شاہد
بڑے بوڑھوں کے آگے گھر کا گھر چپ چاپ رہتا ہے
شاہد جمال
No comments:
Post a Comment