Wednesday, 7 April 2021

میں جانتا ہوں وہ سب جو تم نہیں کہتی

 میں جانتا ہوں

وہ سب

جو تم نہیں کہتی

تمہاری گھڑی کی سُوئی

ابھی تک اسی لمحے پر رُکی ہوئی ہے

جہاں تمہیں اُس نے یہ بتایا تھا

کہ تم میری دوست ہو

بس، دوست

اور تم رونے کے بجائے ہنسنے لگی تھی

بات بدلنے کے لیے

تازہ شعر سُنانے لگی

تم جانتی ہو

تم جب جب خُوش ہوتی ہو

تمہارے لہجے میں اُتر آتا ہے

اس کا کوئی پُرانا شعر

جو تم پر لکھا گیا تھا

کاش تم یہ حقیقت بھی جان سکتی

کہ شاعر

کسی ایک کے لیے

کچھ نہیں لکھتا


عمران ملوک اعوان

No comments:

Post a Comment