میں جانتا ہوں
وہ سب
جو تم نہیں کہتی
تمہاری گھڑی کی سُوئی
ابھی تک اسی لمحے پر رُکی ہوئی ہے
جہاں تمہیں اُس نے یہ بتایا تھا
کہ تم میری دوست ہو
بس، دوست
اور تم رونے کے بجائے ہنسنے لگی تھی
بات بدلنے کے لیے
تازہ شعر سُنانے لگی
تم جانتی ہو
تم جب جب خُوش ہوتی ہو
تمہارے لہجے میں اُتر آتا ہے
اس کا کوئی پُرانا شعر
جو تم پر لکھا گیا تھا
کاش تم یہ حقیقت بھی جان سکتی
کہ شاعر
کسی ایک کے لیے
کچھ نہیں لکھتا
عمران ملوک اعوان
No comments:
Post a Comment