زندگی سونپی تھی جن کو وہ جواری نکلے
ہم نے سمجھا انہیں رہبر وہ شکاری نکلے
کوششیں کی تھی بہت شمع جلانے کی مگر
سب ہی دنیا میں اندھیروں کے پجاری نکلے
ہار جانے کا کوئی خوف نہیں تھا، لیکن
میرے دشمن مِرے اعصاب پہ طاری نکلے
کل تلک جو ہمیں خیرات دیا کرتے تھے
ہائے محشر میں وہی لوگ بھکاری نکلے
میں اگر آہ بھروں، ان کو ہنسی آتی ہے
میرے احباب تو احساس سے عاری نکلے
حرا قاسمی
No comments:
Post a Comment