Wednesday, 7 April 2021

گلیوں میں کھیل کود کھلونوں کا کام ختم

 گلیوں میں کھیل کُود کھلونوں کا کام ختم

اس پر شباب آتے ہی جھُولوں کا کام ختم

اب اس کی یاد آئی ہے جی لگ نہیں رہا

گھنٹوں میں کر رہا ہوں میں لمحوں کا کام ختم

کل اس کے ہونٹ دیکھ کے تتلی نے یہ کہا

بس ہو گیا جہان سے پھُولوں کا کام ختم

کہہ کہہ کے اس پہ شعر مِرا نام ہوا ہے

ورنہ تو ہونے والا تھا غزلوں کا کام ختم

جو اس کو آج دیکھ کے لوٹیں ہیں اپنے گھر

وہ کہہ رہیں ہیں ہو گیا آنکھوں کا کام ختم


ورون آنند 

No comments:

Post a Comment