مرحبا تم بھی ضرورت سے ملے
کون ہے اب جو محبت سے ملے
زندگی نے جو دئیے ہم کو سبق
وہ کہاں پند و نصیحت سے ملے
دل ملانے سے بھلا کیا حاصل
جب طبیعت نہ طبیعت سے ملے
ہائے وہ شہر اماں جس میں ہم
روز اک تازہ قیامت سے ملے
یہ جو پلکوں پہ سجے ہیں موتی
سب ہمیں اس در دولت سے ملے
⌗ کون ہو گا وہ بجز آئینہ
شکل جس کی تِری صورت سے ملے
آج پھینکی گئی ہم پر کچھ خاک
آج ہم اپنی حقیقت سے ملے
ہم نے سمجھا ہے انہیں پیار کے پھول
زخم جو سنگ ملامت سے ملے
تھے وہ عجلت میں گئے یہ کہہ کر
جس کو فرصت ہو وہ فرصت سے ملے
مہتاب عالم
No comments:
Post a Comment