سنو ناراض ہو کیا تم
مِری گمنام ہستی سے
مِری پرکیف مستی سے
مِرے رنگین لہجوں سے
مِری الجھی سی باتوں سے
سنو ناراض ہو کیا تم
جو تم یوں روٹھ جاتے ہو
تو میرا دل الجھتا ہے
چلو پھر جان لو تم بھی
خفا ہونا تِرا بھاتا نہیں مجھ کو
چلو اب مان جاؤ تم
یہ تم بھی جانتے ہو کہ
جدائی موت جیسی ہے
کیا وعدہ جو تھا تم نے
جئیں گے ساتھ ہم ہر دم
مریں گے ساتھ ہم اک دن
تو پھر احساں کرو ہم پر
ہماری لاج رکھ لو تم
سنو ناراض ہو کیا تم
ادیبہ ملک
No comments:
Post a Comment