اے صبا دور تک پہنچا یہ آوازہ میرا
آئینہ سچ بولتا ہے، جھوٹ تھا غازہ میرا
میں جسے دریا سمجھتا تھا وہ صحرا بھی نہیں
دیکھا، کتنا غلط نکلا ہے اندازہ میرا
ڈھونڈتے رہ جائیں گے مجھ کو ہوا کے ہاتھ بھی
اک نہ اک دن یوں بکھر جائے گا شیرازہ میرا
یہ بھی کیا رُت ہے کوئی یاد تک آتا نہیں
وہ بھی کیا دن تھے کہ اک زخم تھا تازہ میرا
وہ تو جرار یوں بھی ہرجائی تھا پھر کب آئے گا
اس کی خاطر کیوں کھلا رہتا ہے دروازہ میرا
آغا جرار
No comments:
Post a Comment