یہ دستکوں پہ جو کھُلتے نہیں تو ٹُوٹیں گے
گُماں کی ضرب سے بابِ یقیں تو ٹوٹیں گے
فلک کے ضابطے رہتے وہیں تو اچھا تھا
اتار لائے ہو سُوئے زمیں تو ٹوٹیں گے
تمہارے ہاتھ رکیں گے کہیں پہ جا کر تو
ہمارے ضبط کہیں نہ کہیں تو ٹوٹیں گے
یہ شیشے جیسے مراسم یہ کچی عمر کے خواب
اگر سنبھال کے رکھے نہیں تو ٹوٹیں گے
ہمارے مان سلامت ہیں صرف دُوری سے
ہوئے سفال یہ باہم قریں تو ٹوٹیں گے
صنم تراشنے والوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں
ظہیر رنج کہاں کا، نگیں تو ٹوٹیں گے
ظہیر مشتاق
No comments:
Post a Comment