اگر وہ آج روٹها ہے جدا ہونے پہ آیا تو
ابهی تو آدمی ہے وہ خدا ہونے پہ آیا تو
خلوصِ بندگی میں پهر خسارہ کون سوچے گا
محبت فرض ایسا ہے ادا ہونے پہ آیا تو
ابهی میری یہ کوشش ہے مجت آزماتا ہوں
اسے میں پهر منا لوں گا خفا ہونے پہ آیا تو
میری اس ٹمٹماہٹ کی روش بھی آفتانی ہے
چراغِ زندگی ہوں میں دِیا ہونے پہ آیا تو
سکوتِ ساز مت چھیڑو نئی سرگم کے چکر میں
پرانا عشق ہے تیرا، نیا ہونے پہ آیا تو
قفس آباد ہے دل کا محبت کے پرندے سے
ابهی تو قید ہے انصر رہا ہونے پہ آیا تو
انصر منیر
No comments:
Post a Comment