Tuesday, 6 April 2021

اگر وہ آج روٹها ہے جدا ہونے پہ آیا تو

 اگر وہ آج روٹها ہے جدا ہونے پہ آیا تو

ابهی تو آدمی ہے وہ خدا ہونے پہ آیا تو

خلوصِ بندگی میں پهر خسارہ کون سوچے گا

محبت فرض ایسا ہے ادا ہونے پہ آیا تو

ابهی میری یہ کوشش ہے مجت آزماتا ہوں

اسے میں پهر منا لوں گا خفا ہونے پہ آیا تو

میری اس ٹمٹماہٹ کی روش بھی آفتانی ہے

چراغِ زندگی ہوں میں دِیا ہونے پہ آیا تو

سکوتِ ساز مت چھیڑو نئی سرگم کے چکر میں

پرانا عشق ہے تیرا، نیا ہونے پہ آیا تو

قفس آباد ہے دل کا محبت کے پرندے سے

ابهی تو قید ہے انصر رہا ہونے پہ آیا تو


انصر منیر

No comments:

Post a Comment