Tuesday, 20 April 2021

انہی کے دم سے کئی گھروں میں دیے جلے ہیں

 انہی کے دم سے کئی گھروں میں دِیے جلے ہیں

یہ کچے رستے جو شاہراہوں سے جا ملے ہیں

وہ اور ہو گا جو توڑ دے گا غرور میرا

ہٹو یہاں سے تمہارے جیسے بہت پڑے ہیں

یہ گاؤں اپنی روایتوں سے جُڑا ہوا ہے

یہاں کے بچے دھنک کے رنگوں سے کھیلتے ہیں

کسی کو ان کی مثال دینے سے پہلے سوچو

یہ زندگی کے مشاہدے میں ابھی نئے ہیں

زمینی جنگوں کو فاختہ کی نظر لگی ہے

بری طرح سے جہاز کے  پرخچے اڑے ہیں

کسی کی آمد پر اس طرح سے اکٹھے ہیں سب

سڑک کے دونوں طرف ہی جھنڈے لگے ہوئے ہیں

وہ کون ہے جو ہواؤں سے خوشبو لے گیا ہے

یہ کس کے جانے کا غم شجر بھی منا رہے ہیں

یہ کیا کہ سب کو دعائیں دینے کے بعد زہرا

ہمارے در سے فقیر خالی پلٹ گئے ہیں


زہرا قرار

زہرہ قرار

No comments:

Post a Comment