اپنے اندر سے کھوکھلے ہو تم
اس لیے اتنا بولتے ہو تم
آج میں پھر شکست خوردہ ہوں
اور مجھے یاد آ رہے ہو تم
دیکھو دنیا کہاں پہ جا پہنچی
اور ابھی تک وہیں کھڑے ہو تم
یہ جدائی بھی کیا جدائی ہے
میری آنکھوں کے سامنے ہو تم
اس کی خوابوں میں کوئی رہتا ہے
جس کی آنکھوں پہ مر مٹے ہو تم
کتنے پُر اعتماد ہو شاذف
جیسے دنیا کو جانتے ہو تم
علی شاذف باقری
No comments:
Post a Comment