بستی کا شور ذہن کے اندر لگا مجھے
سب سو رہے تھے رات بڑا ڈر لگا مجھے
تنہا تھا وہ مگر مجھے احساسِ جرم تھا
سایہ بھی اس کا قد کے برابر لگا مجھے
اتنی تھکن کہ نیند کی چادر نہ ہٹ سکی
اندر جو چور تھا وہی باہر لگا مجھے
اک لمسِ گرم رُوح کے اندر اُتر گیا
میں سو گیا تو ہاتھ بھی پتھر لگا مجھے
وہ مر گیا تو ماتھے سے میرے چمٹ گیا
مارا تھا اس کو میں جو خنجر لگا مجھے
فکر معاش جسم سے آرام لے گئی
جب تھک گیا تو فرش بھی بستر لگا مجھے
آنکھوں کی شش جہات میں صدیوں کی گرد باد
قطرہ جو تھا پلک پہ سمندر لگا مجھے
ماجد الباقری
No comments:
Post a Comment