Monday, 19 April 2021

آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہی

آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہی

دنیا ہمارے حال کو چپ دیکھتی رہی 🗺

برسوں ہمارے ساتھ رواں زندگی رہی

آخر کو اجنبی کی وہی اجنبی رہی

تجھ کو جنہوں نے صاحبِ محفل بنا دیا

محفل میں تیری صرف انہیں کی کمی رہی

بیٹھے تو ایک پیکر فتنہ بنے رہے

اٹھے تو آ کے ساتھ قیامت کھڑی ہوئی

اہلِ جنوں تو اس سے بھی آگے نکل گئے

منزل کے فاصلوں کو خِرد ناپتی رہی

دنیا کو ٹھوکروں میں رکھا جس نے دوستو

قدموں میں ایسے شخص کے دنیا پڑی رہی

خاموش ہم بھی سنتے رہے اپنی داستاں

دنیا بغیر نام لیے بولتی رہی 🗺

جب سے غموں کی بھیڑ میں ہم کھو گئے نصیب

اس روز سے خوشی بھی ہمیں ڈھونڈتی رہی


داؤد نصیب

No comments:

Post a Comment