Friday, 9 April 2021

جتنا برہم وقت تھا اتنے ہی خود سر ہم بھی تھے

 جتنا برہم وقت تھا اتنے ہی خود سر ہم بھی تھے

موج طوفاں تھا اگر پل پل تو پتھر ہم بھی تھے

کاش کوئی اک اچٹتی سی نظر ہی ڈالتا

چُور تھے زخموں سے لیکن ایک منظر ہم بھی تھے

گر وبالِ دوش تھا سر، ہاتھ میں تیشہ بھی تھا

اک طرف سے تو نصیبے کے سکندر ہم بھی تھے

خود شناسی کا بھلا ہو راکھ کی چٹکی ہیں آج

ورنہ اک رخشندہ و تابندہ گوہر ہم بھی تھے

سطح بیں تھے لوگ کیا پاتے ہماری وسعتیں

جھانکتا دل میں کوئی تو اک سمندر ہم بھی تھے

چڑھتے سورج کی پرستش گو تھا دنیا کا اصول

ہم کسی کو پوجتے کیسے کہ خاور ہم بھی تھے


خاور رضوی

No comments:

Post a Comment