وطن کی یاد میں
زمیں تمام ایک ہے، زماں تمام ایک ہے
مکیں تمام ایک ہے، مکاں تمام ایک ہے
خوشا نصیب پیار کا، جہاں تمام ایک ہے
لیے ہوئے نظر نظر میں سرخُوشی کا ارمغاں
یہ بزم غیر کا نہیں، اس انجمن کا ذکر ہے
دیار خلد کا نہیں، مِرے چمن کا ذکر ہے
مِرے عظیم ہند کا، مِرے وطن کا ذکر ہے
وطن جو عظمت بشر کا آج بھی ہے پاسباں
کنول پرشاد کنول
No comments:
Post a Comment