Friday, 9 April 2021

شب گزیدہ کے گھر نہیں آتی

 شب گزیدہ کے گھر نہیں آتی

خواب میں بھی سحر نہیں آتی

کیا سنیں دیس کی سنائیں کیا

کوئی اچھی خبر نہیں آتی

آئینہ دوسروں کی جانب ہے

اپنی صورت نظر نہیں آتی

آپ منہ میں زبان رکھتے ہیں

بات کرنی مگر نہیں آتی

درس دیتے ہیں وہ محبت کا

جن کو زیر و زبر نہیں آتی

میری قسمت ہے یا پچھل پیری

لوٹ جاتی ہے گھر نہیں آتی

بن تِرے کچھ نظر نہیں آتا

تجھ کو عطیہ نظر نہیں آتی


عطیہ نیازی

No comments:

Post a Comment