رنج کا کب علاج کرتی ہے
زندگی کل اور آج کرتی ہے
لوگ تیار کیوں نہیں ہوتے
سادگی احتجاج کرتی ہے
روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں
زندگی کام کاج کرتی ہے
کیا بُزرگی سفید چڑیا ہے؟
ہر عمل اندراج کرتی ہے
شامِ ہجراں اُداس لوگوں کا
ہر مرض لاعلاج کرتی ہے
آؤ چلتے ہیں اُس کے رستے پر
زندگی پر جو راج کرتی ہے
سعد جمشید
No comments:
Post a Comment