Sunday, 11 April 2021

رنج کا کب علاج کرتی ہے

 رنج کا کب علاج کرتی ہے

زندگی کل اور آج کرتی ہے

لوگ تیار کیوں نہیں ہوتے

سادگی احتجاج کرتی ہے

روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں

زندگی کام کاج کرتی ہے

کیا بُزرگی سفید چڑیا ہے؟

ہر عمل اندراج کرتی ہے

شامِ ہجراں اُداس لوگوں کا

ہر مرض لاعلاج کرتی ہے

آؤ چلتے ہیں اُس کے رستے پر

زندگی پر جو راج کرتی ہے


سعد جمشید

No comments:

Post a Comment