پریشاں ہیں عدیم الفرصتی سے
نہیں بیزار پھر بھی زندگی سے
شرافت کی کوئی حد ہے مقرر
تو باز آ جائیں صلح و آشتی سے
چھپائے پھرتے ہیں دوزخ دلوں میں
بہ ظاہر لگتے ہیں سب جنتی سے
عجب ہے اختلاط دین و دنیا
نہ دب جائے کہیں نیکی بدی سے
تماشے کو نہ کیوں دستور کہیے
سمندر پیٹ بھرتا ہے ندی سے
قطب مینار سے آواز دیں کیا
کہ ہم کیا چاہتے ہیں شاعری سے
اندھیری رات پھر امید سے ہے
کرن پھوٹے گی اس کی کوکھ ہی سے
ابھی ہے سخت محنت کی ضرورت
ابھی انسان کم ہیں آدمی سے
وہی مدح و ستائش دل نوازی
کبھی تو پیش آؤ بے رخی سے
سفر آسان ہے دشوار کر دو
خدارا ساتھ آ جاؤ خوشی سے
سنہری دھوپ سے مرعوب ہو تم
بلند اقبال ہوتا ہے خودی سے
مجھے عابد پکاریں سرفراز اب
کہ سچ لکھتا ہوں میں سنجیدگی سے
سرفراز اعظمی
No comments:
Post a Comment