Monday, 5 April 2021

اک نہ اک شمع اندھیرے میں جلائے رکھیے

 اک نہ اک شمع اندھیرے میں جلائے رکھیے

صبح ہونے کو ہے ماحول بنائے رکھیے

جن کے ہاتھوں سے ہمیں زخم نہاں پہنچے ہیں

وہ بھی کہتے ہیں کہ زخموں کو چھپائے رکھیے

کون جانے کہ وہ کس راہ گزر سے گزرے

ہر گزر گاہ کو پھولوں سے سجائے رکھیے

دامن یار کی زینت نہ بنے ہر آنسو

اپنی پلکوں کے لیے کچھ تو بچائے رکھیے


طارق بدیوانی

No comments:

Post a Comment