عکس رخصت ہوئے، آئینے رہ گئے
زادِ عمرِ رواں تذکرے رہ گئے
ایک ٹھنڈے پڑاؤ کی خواہش میں ہم
اجنبی سر زمیں پر پڑے رہ گئے
منتشر زمزمے، تہہ میں گرداب تھے
سطحِ خاموش تک دائرے رہ گئے
ایک سہمی ہوئی شب کی آغوش میں
لمسِ بے نام کے ذائقے رہ گئے
لاؤ٭ لشکر لیے خواب رخصت ہوئے
چشمِ بے خواب میں رتجگے رہ گئے
غزالہ شاہد
٭لاؤ لشکر: غلط العام لفظ ہے اصل میں یہ لاد لشکر ہے
No comments:
Post a Comment