Saturday, 3 April 2021

چاہت کے شاہکار بدل جاتے ہیں

 چاہت کے شاہکار بدل جاتے ہیں

لوگ یہاں سرکار بدل جاتے ہیں

گر محبت میں ملاوٹ ہو ذرا سی بھی

رستے صاحب گلزار بدل جاتے ہیں

روز کرتے ہیں وہ عہد ملنے کے

کر کے وعدے ہر بار بدل جاتے ہیں

روز مرنے چلے آتے ہیں اسکی نگاہوں سے

روز اس کے شکار بدل جاتے ہیں

مل جائے اک جھلک اگر ساقی کی

دیکھنے والوں کے اتوار بدل جاتے ہیں

روز ہوتی ہیں میکدوں میں ہزاروں باتیں

روز پی کر مے خوار بدل جاتے ہیں

تم چند گھڑی کی محبت کو روتے ہو مسافر

یہاں بچپن کے یار بدل جاتے ہیں


آفتاب مسافر

No comments:

Post a Comment