چاہت کے شاہکار بدل جاتے ہیں
لوگ یہاں سرکار بدل جاتے ہیں
گر محبت میں ملاوٹ ہو ذرا سی بھی
رستے صاحب گلزار بدل جاتے ہیں
روز کرتے ہیں وہ عہد ملنے کے
کر کے وعدے ہر بار بدل جاتے ہیں
روز مرنے چلے آتے ہیں اسکی نگاہوں سے
روز اس کے شکار بدل جاتے ہیں
مل جائے اک جھلک اگر ساقی کی
دیکھنے والوں کے اتوار بدل جاتے ہیں
روز ہوتی ہیں میکدوں میں ہزاروں باتیں
روز پی کر مے خوار بدل جاتے ہیں
تم چند گھڑی کی محبت کو روتے ہو مسافر
یہاں بچپن کے یار بدل جاتے ہیں
آفتاب مسافر
No comments:
Post a Comment