Friday, 16 April 2021

تانبے کی عورت کیوں پگھل نہ سکی

 تانبے کی عورت


ہتھوڑے کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن

جچے کیوں نہیں

اور تانبے کی عورت

تپی، تمتائی، مگر مسکرائی، جمی ہی رہی

کیوں پگھل نہ سکی

پاؤں جلتے رہے، وہ کڑی دھوپ میں بھی کھڑی ہی رہی

اس کے آنے تلک

لوٹ جانے تلک

نہیں اس کو سچ مچ کسی بات کی بھی

کوئی سدھ نہیں 


نسرین انجم بھٹی

No comments:

Post a Comment