یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے، ہمارا کم ہے
صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے
اتنی جلدی نہ بنا رائے میرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے
باصر کاظمی
No comments:
Post a Comment