Wednesday, 14 April 2021

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

 اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے

جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ

دوست دشمن کا زیادہ ہے، ہمارا کم ہے

صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار

ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے

اتنی جلدی نہ بنا رائے میرے بارے میں

ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے


باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment