Wednesday, 14 April 2021

آگہی کے کھیل میں اب یہ زیاں ہونے کو ہے

 آگہی کے کھیل میں اب یہ زیاں ہونے کو ہے

برق رفتاری میں دھرتی بے مکاں ہونےکو ہے

اک تزلزل سا زمیں تا آسماں ہونے کو ہے

اور سب کچھ پل کہ پل میں بے نشاں ہونے کو ہے

ہر کسی کو اک قیامت کا گماں ہونے کو ہے

عالمِ ہستی فقط ہو کا مکاں ہونے کو ہے

آسمانوں پر کمندیں جنگلوں سے چھیڑ چھاڑ

کچھ نہ کچھ ردِ عمل تو بے گماں ہونے کو ہے

مستقل آئینِ فطرت میں وہ دخل اندازیاں

بسکہ موجودات سے ہی گم جہاں ہونے کو ہے

وہ قیامت جو رضیہ آنے والی ہے ضرور

جانے کب آتی مگر اب ناگہاں ہونے کو ہے


رضیہ کاظمی

No comments:

Post a Comment