آگہی کے کھیل میں اب یہ زیاں ہونے کو ہے
برق رفتاری میں دھرتی بے مکاں ہونےکو ہے
اک تزلزل سا زمیں تا آسماں ہونے کو ہے
اور سب کچھ پل کہ پل میں بے نشاں ہونے کو ہے
ہر کسی کو اک قیامت کا گماں ہونے کو ہے
عالمِ ہستی فقط ہو کا مکاں ہونے کو ہے
آسمانوں پر کمندیں جنگلوں سے چھیڑ چھاڑ
کچھ نہ کچھ ردِ عمل تو بے گماں ہونے کو ہے
مستقل آئینِ فطرت میں وہ دخل اندازیاں
بسکہ موجودات سے ہی گم جہاں ہونے کو ہے
وہ قیامت جو رضیہ آنے والی ہے ضرور
جانے کب آتی مگر اب ناگہاں ہونے کو ہے
رضیہ کاظمی
No comments:
Post a Comment