Wednesday, 14 April 2021

میں نے مانگی تھی سرسری وحشت

 میں نے مانگی تھی سرسری وحشت 

ہائے پیچھے ہی پڑ گئی وحشت

ابتدا میں ہوئی پریشانی

پھر مجھے راس آ گئی وحشت 

یہ اندھیرے ہیں باعث تسکیں

ساتھ لاتی ہے روشنی وحشت

اے مِرا ساتھ چاہنے والی

سہہ نہ پائے گی تُو مِری وحشت

چار دن تیرے ساتھ کیا گزرے

ہو گئی دیکھ اجنبی وحشت

آنکھ اس کی رہی سدا پُر نم 

اک نظر جس نے دیکھ لی وحشت 

پاس رکھتا ہوں قیمتی چیزیں

مرضئ یار، شاعری، وحشت

چھن گئے ہیں قرار، چین، سکوں 

رہ گئے پاس بے بسی، وحشت


قمر آسی

No comments:

Post a Comment