Thursday, 15 April 2021

چاندنی رات کو سحر کہنا

 چاندنی رات کو سحر کہنا

دوستو! یوں نہیں مگر کہنا

 اب کہاں وہ بہار پھولوں کی 

گلِ نرگس کو چشمِ تر کہنا

بجھ چکے ہیں محبتوں کے چراغ 

ان دیاروں کو اب کھنڈر کہنا

راہ میں لُٹ کے بیٹھنے والو

اب کسی کو نہ ہمسفر کہنا

ہم کو آوارگی کے پردے میں

دل کی باتیں اِدھر اُدھر کہنا

ذکر تیرا گلی گلی کرنا

حال اپنا نگر نگر کہنا

لبِ گویا عذابِ جاں ہے فراز

جو بھی کہنا ہے سوچ کر کہنا


احمد فراز

No comments:

Post a Comment