Thursday, 15 April 2021

دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد

 دورِ حیات آئے گا قاتل! قضا کے بعد

ہے ابتداء ہماری تِری انتہا کے بعد

جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو

باقی ہے موت ہی دلِ بے مدعا کے بعد

تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے

میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد

لذت ہنوز مائدۂ عشق میں نہیں

آتا ہے لطفِ جرمِ تمنا سزا کے بعد

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

غیروں پہ لطف ہم سے الگ حیف ہے اگر

یہ بے حجابیاں بھی ہوں عذر حیا کے بعد

ممکن ہے نالہ جبر سے رک بھی سکے مگر

ہم پر تو ہے وفا کا تقاضہ جفا کے بعد

ہے کس کے بل پہ حضرت جوہر یہ روکشی 

ڈھونڈیں گے آپ کس کا سہارا خدا کے بعد


مولانا محمد علی جوہر

No comments:

Post a Comment