Monday, 12 April 2021

ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں

 ملاقات


ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں

ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں

ان گنت زاویے افکار کے لے آتے ہیں

ان کھلونوں سے وہ اذہان کو بہلاتے ہیں

اپنے کرتب پہ وہ اٹھلاتے ہیں اتراتے ہیں

اور موہوم سی تسکین یوں ہی پاتے ہیں

ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں

ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں


ان میں خوش کار بھی ہیں ان میں ریاکار بھی ہیں

ان میں غم خوار بھی ہیں ان میں جفا کار بھی ہیں

خار ہائے محن و درد کے تجار بھی ہیں

اور گُلہائے‌ محبت کے خریدار بھی ہیں

شعبدہ گر بھی ہیں چالاک بھی عیار بھی ہیں

اور گردیدۂ محنت بھی ہیں، فنکار بھی ہیں

ان میں بے ہوش بھی ہیں ان میں جنوں کار بھی ہیں

ان میں دانا بھی ہیں بینا بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں


ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں

ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں

ہر مسافر کو ملاقات یہ راس آئی ہے

اس ملاقات سے ہستی نے جلا پائی ہے

اس ملاقات نے اک روشنی پھیلائی ہے

لوگ بڑھتے ہیں تو تہذیب بڑھا کرتی ہے

لوگ لڑتے ہیں تو تہذیب مٹا کرتی ہے

ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیں

ایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیں


داؤد غازی

No comments:

Post a Comment