Monday, 12 April 2021

ببول کے درخت سے کہو

 ببول کے درخت سے کہو


ببول کے درخت سے کہو

ابھی مشامِ جاں میں ہر سنگھار کی شگفتگی

بڑے ہی انہماک سے بہار پاش ہے یہاں

جو مُڑ کے دیکھتا ہوں ادھ جلے گلاب کا بدن

شہادتوں کے رمز پر سنگھار بھی لٹا گیا

جو مُڑ کے دیکھتا ہوں فاختہ کا احمریں لہو

جبینِ جور کی سبھی رعونتیں مٹا گیا

مِرے خلاف سازشوں کا یہ مہیب سلسلہ

مِری انا کے بانکپن میں دفعتاً سما گیا

چنار کے درخت سے ہے ناریل کے پیڑ تک

رواں دواں ہماری خوشبوؤں کا شوخ سلسلہ

کبوتروں کے غول کی پھبن ہرن کی چوکڑی

ہوا کے دوش مرغزار کو دلہن بنا گئی

ابھی مِری زمین کی فضائیں صبح فام ہیں

دھویں کے ناگ سے کہو

بڑی ہی سخت جان ہیں ہماری وادیوں میں رنگ و نور کی لطافتیں

سمندروں کی سیپیوں سے پوکھروں کی گھونگھیوں نے

بیعتوں کے واسطے سپرد کب کیا ہے غیرتوں کے لالہ زار کو

ابھی حصارِ سنگ میں کنول کے پھول ہیں کھِلے

زبانِ ریگِ سرخ سے کہو

ہمارے پاؤں جل گئے تو کیا ہوا

بہار سبز کے لیے زمیں تو آج مل گئی


عنبر بہرائچی

No comments:

Post a Comment