Monday, 12 April 2021

محبت کی ہوا بن کر کرم کے پھول برساؤ

 محبت کی ہوا بن کر، کرم کے پھول برساؤ


محبت کی ہوا بن کر، کرم کے پھول برساؤ

چمن والو! بہارِ جاں فزا کی رُت میں ڈھل جاؤ

خزاں ہے، ہر طرف صیّاد ہیں، سازش کے جالے ہیں

سبھی ہیں منتظر، اے پنچھیو! تم کب پھسل جاؤ

کرشمے بجلیوں کے، عکس اور آواز کے جادو

کہ چھوڑو شہسواری، بس کھلونوں سے بہل جاؤ

زماں بدلا، زمیں بدلی، مکاں بدلے، قریں بدلے

مِرے دل کے مکینو! یہ نہ ہو تم بھی بدل جاؤ

اندھیرا چھا گیا اک مغربی برقاب سے من میں

بڑھا دو ذکر کی لو، نور کی رہ پر نکل جاؤ

اگر شفاف ہے آئینہ دل پھر فتن کیسے

زمیں سے باعمل گزرو، فلک کو با اَمل جاؤ

جو خود گرداب ہیں وہ کشتیاں کو کیا ترائیں گے

کہ موجِ صدق بن کر ساحلوں پر تم اچھل جاؤ

صلیبی جنگ سے غافل بھی، محو شغل بھی، گویا

کہ مچھر چھان لو، اونٹوں کو سالم ہی نگل جاؤ

بجھانا چاہتی ہیں آندھیاں جس شمعِ ایماں کو

تمہیں اس کی حفاظت کے لیے بالشوق جل جاؤ

برائے غاصباں اک سنگِ آتش ریز ہو رہنا

برائے عاصیاں لیکن بنو شمع پگھل جاؤ

رہیں جذبات تابع عقل کے، اور عقل شرع کے

ہے اک سازش کہ تم جذبات میں بہہ کر کچل جاؤ

تمہیں پھسلے اگر تو قافلے والوں کا کیا ہو گا

امیرِکارواں! اوروں کی خاطر ہی سنبھل جاؤ

شکاری ہو منجھے گر تم، تو تاکو ہاتھی والوں کو

کہ کچلو سانپ کا سر، مت لکیروں پر مچل جاؤ

شریعت جب نہ ہو تو پھر یہ طبلِ جنگ فتنہ ہے

کہیں بہتر ہے ریوڑ لے کے جنگل کو نکل جاؤ


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment