Friday, 9 April 2021

رہ جائیں فلک والے شورش سے نہ بیگانہ

 رہ جائیں فلک والے شورش سے نہ بیگانہ

ناہید کر تڑپا دے اے نعرۂ مستانہ

کچھ اور بھی جلوے ہیں کچھ اور بلاوے ہیں

لے تیرا خدا حافظ، اے جلوۂ جانانہ

میخانے کی حُرمت کا کچھ پاس بھی ہے لازم

لغزش میں قرینے سے اے لغزشِ مستانہ

آزادی کی دھومیں ہیں شہرے ہیں ترقی کے

ہر گام ہے پسپائی، ہر وضع غلامانہ

اے عقل و خِرد والو! مجنوں کا گِلہ کیسا

دیوانے کو کیا کہیۓ؟ دیوانہ ہے دیوانہ


مجنوں گورکھپوری

No comments:

Post a Comment