Friday, 9 April 2021

پھیلی ہے دھوپ جذبۂ اسفار دیکھ کر

 پھیلی ہے دھوپ جذبۂ اسفار دیکھ کر

ہر گز ٹھہر نہ سایۂ اشجار دیکھ کر

چل آ وہیں چلیں کہ جہاں شور و شر نہ ہو

تنگ آ گیا ہوں گرمئ بازار دیکھ کر

افواہ وہ اڑی تھی کہ میں کل بہت ہنسا

روتا ہوں آج صبح کا اخبار دیکھ کر

ایسا نہ ہو کہ قوم کا بیڑا ہی غرق ہو

تقریر جھاڑ قوم کے معمار دیکھ کر

جامدؔ مِرا وجود ہے ملبہ بنا ہوا

اک خوف سر اٹھاتا ہے دیوار دیکھ کر


عقیل جامد

No comments:

Post a Comment