Friday, 2 April 2021

کاغذ کی کشتیوں میں پانی کا سفر ہے یہ

 کاغذ کی کشتیوں میں پانی کا سفر ہے یہ

مٹی کے باسیوں کا ویران نگر ہے یہ

جن لوگوں پہ تکیہ تھا ان سب کے رویوں میں

طوفان کے آنے سے پہلے کا اثر ہے یہ

جس کے در و دیوار میں چیخیں ہوں مقید

کیسے نہ کہوں اس کو وحشت بھرا گھر ہے یہ

لکھا ہے جس نے کھیل کے پتوں پہ ضرورت

شاطِر کھلاڑیوں کا بھرپور ہنر ہے یہ

سر اپنا ہاتھ اپنے دستار بھی مرضی کی

دستار نہیں سانپ کی اک راہ گزر ہے یہ

ممتاز میرے سامنے کیچڑ بھرا رستہ ہے

دامن کی سفیدی پر چھینٹے کا خطر ہے یہ


ممتاز ملک

No comments:

Post a Comment