Tuesday, 13 April 2021

زندگی خواہشوں کا مقتل ہے

 زندگی خواہشوں کا مقتل ہے

دل کی دنیا میں ایک ہلچل ہے

ہوش کی حد میں رہ نہیں سکتا

برتری کا مریض پاگل ہے

خیر خواہی کی گھاس کے نیچے

مصلحت کی غلیظ دلدل ہے

اور اک چوٹ دیجیے مجھ کو

میری تکلیف نامکمل ہے

اے اثر خیریت کا دروازہ

سالہا سال سے مقفّل ہے


ساجد اثر

No comments:

Post a Comment