یادیں تیری کرتی جب حیران مجھے
جسم بھی لگنے لگتا ہے زندان مجھے
ہجر میں تیرے ایسی چیخ سنائی دی
سونپ دئیے ہیں سب نے اپنے کان مجھے
تیری مرضی، تُو جو چاہے کہہ لینا
کہنے والے کہتے اپنی جان مجھے
عزم کو اپنے جب پتوار بنا لوں گا
کیسے روکے گا بتلا طوفان مجھے
بخش یہ عزت مولا! اپنے بندے کو
رکھ لے اپنے گھر کا تُو دربان مجھے
ان کے در کی نسبت جب سے پائی ہے
لوگ سمجھتے ہیں کاشف سلطان مجھے
کاشف سلطان
No comments:
Post a Comment