Tuesday, 6 April 2021

یادیں تیری کرتی جب حیران مجھے

یادیں تیری کرتی جب حیران مجھے

جسم بھی لگنے لگتا ہے زندان مجھے

ہجر میں تیرے ایسی چیخ سنائی دی

سونپ دئیے ہیں سب نے اپنے کان مجھے

تیری مرضی، تُو جو چاہے کہہ لینا

کہنے والے کہتے اپنی جان مجھے

عزم کو اپنے جب پتوار بنا لوں گا

کیسے روکے گا بتلا طوفان مجھے

بخش یہ عزت مولا! اپنے بندے کو

رکھ لے اپنے گھر کا تُو دربان مجھے

ان کے در کی نسبت جب سے پائی ہے

لوگ سمجھتے ہیں کاشف سلطان مجھے


کاشف سلطان

No comments:

Post a Comment