Tuesday, 6 April 2021

مجھے ضرورت نہیں ہے کہ میں حساب رکھوں

 یہ ساری باتیں تو اس کے جانے کے بعد کی ہیں


نظر سے اوجھل ضرور ہے پر جُڑا ہوا ہے

پتنگ بن کر وہ آسمانوں پہ تیرتا ہے

میں ڈور لے کر زمین پر ہوں

یہ جانتا ہوں

کہ پیچ لگنے تلک کا ہی ساتھ ہو گا بس یہ

وہ جب کٹے گا تو سرحدوں سے پَرے گِرے گا

مگر یہ کم ہے؟

اسے ان آنکھوں میں بھر کے رکھنا تو ٹھیک ہے پر

ہر ایک لمحے کو گِن کے کاغذ پہ درج کرنے سے کیا ملے گا؟

ہے کیا ضمانت؟

کہ وصل کی ہر گھڑی کو دل میں سنبھال رکھنا

اسے کبھی گم نہیں کرے گا

وہ ساتھ ہوتا ہے بس بہت ہے

مجھے ضرورت نہیں ہے کہ میں حساب رکھوں

وہ کب گیا، کتنی دیر ٹھہرا

جو ملنے آیا تو کیا سمے تھا

یہ گوشوارے ہیں ہجرتوں کے

کہ جب پرندوں کے کوچ کرنے کا وقت ہو گا، ضرور بھرنا

فراق لمحوں کا شوق سمجھو

یا آنے والی رُتوں میں فرصت کا شغل جانو

یہ سارے تخمینے ہِجر کے ہیں

تمام فکریں تو یاد کی ہیں

یہ ساری باتیں تو اس کے جانے کے بعد کی ہیں


ہمایوں منصور 

No comments:

Post a Comment