ایسا جینا بھی کیا ہے مر مر کے
وہ جہاں بھی رہے، رہے ڈر کے
اب کسی طرح دل نہیں لگتا
گھر میں سب کچھ تو ہے سوا گھر کے
سانس کا بوجھ اب نہیں اُٹھتا
جسم خالی ہے، دھڑ بِنا سر کے
اس کو جانے کی کتنی جلدی تھی
بات ساری کہی پہ کم کر کے
اس کو ناراض ہونا آتا ہے
واری جاؤں میں ایسے تیور کے
پوجا بھاٹیہ
No comments:
Post a Comment