Tuesday, 20 April 2021

ایسا جینا بھی کیا ہے مر مر کے

 ایسا جینا بھی کیا ہے مر مر کے

وہ جہاں بھی رہے، رہے ڈر کے

اب کسی طرح دل نہیں لگتا

گھر میں سب کچھ تو ہے سوا گھر کے

سانس کا بوجھ اب نہیں اُٹھتا

جسم خالی ہے، دھڑ بِنا سر کے

اس کو جانے کی کتنی جلدی تھی

بات ساری کہی پہ کم کر کے

اس کو ناراض ہونا آتا ہے

واری جاؤں میں ایسے تیور کے


پوجا بھاٹیہ

No comments:

Post a Comment