مجھے اس سے محبت ہے، تو ہے
جو یہ حرفِ بغاوت ہے، تو ہے
تو کیا میں معذرت کرتا پھروں؟
مِرے اندر جو وحشت ہے، تو ہے
کہے وہ سر پھِرا تو کیا ہوا
یہی اپنی حقیقت ہے، تو ہے
مداوائے دلِ مضطر ہے وہ
خیالِ یار راحت ہے، تو ہے
سنوں دل کی کہ دنیا کی سنوں
اگر وہ بے مروّت ہے، تو ہے
انا قصہ کہاں سے آ گیا؟
مجھے اس کی ضرورت ہے، تو ہے
چھُپائیں کیا خوشی دل کی سعید
نگاہوں میں اشاعت ہے، تو ہے
سعید راجہ
No comments:
Post a Comment