Wednesday, 14 April 2021

میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے

 میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے

بہت اپنے بارے میں میں نے سنا ہے

سکوں سے کوئی گھر میں بیٹھا ہوا ہے

کوئی خواب میں دوڑتا بھاگتا ہے

ادب میں بہت کچھ پرانا ہے لیکن

ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا کچھ نیا ہے

جہاں آندھیوں نے جمائے تھے ڈیرے

ابھی تک وہاں ایک روشن دِیا ہے

کوئی سو رہا ہے اجالے میں دن کے

کوئی رات کے خوف سے جاگتا ہے

مجھے حال دل کا سنانا ہے جس کو

اسے میرے بارے میں سب کچھ پتہ ہے

عجب شور محشر بپا ہے یقیناً

کسی شاخ سے کوئی پتا گرا ہے


خواجہ جاوید اختر

No comments:

Post a Comment