اس بدن میں قیام کرتا ہوں
خوشبوؤں کا میں کام کرتا ہوں
بات بگڑی تھی التجاؤں سے
مختصر اب کلام کرتا ہوں
دھیان دیتا نہیں اداؤں پہ
یوں انہیں زیرِ دام کرتا ہوں
بھیجتا ہوں گلاب روز اُن کو
کتنا دلچسپ کام کرتا ہوں
کر بھی لیتا ہوں تھوڑا صرفِ نظر
آپ کا احترام کرتا ہوں
میں مشقّت پسند تھا پہلے
اب اشاروں سے کام کرتا ہوں
آج نمبر بدلتا ہوں اپنا
آج قصہ تمام کرتا ہوں
مجھے پاگل سمجھتے ہیں توحید
میں جنہیں لالہ فام کرتا ہوں
توحید زیب
No comments:
Post a Comment