Wednesday, 14 April 2021

اس بدن میں قیام کرتا ہوں

 اس بدن میں قیام کرتا ہوں

خوشبوؤں کا میں کام کرتا ہوں

بات بگڑی تھی التجاؤں سے

مختصر اب کلام کرتا ہوں

دھیان دیتا نہیں اداؤں پہ

یوں انہیں زیرِ دام کرتا ہوں

بھیجتا ہوں گلاب روز اُن کو

کتنا دلچسپ کام کرتا ہوں

کر بھی لیتا ہوں تھوڑا صرفِ نظر 

آپ کا احترام کرتا ہوں

میں مشقّت پسند تھا پہلے

اب اشاروں سے کام کرتا ہوں

آج نمبر بدلتا ہوں اپنا

آج قصہ تمام کرتا ہوں

مجھے پاگل سمجھتے ہیں توحید

میں جنہیں لالہ فام کرتا ہوں


توحید زیب

No comments:

Post a Comment